1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان میں عورت مارچ: ’امید مزاحمت سے ہی جنم لیتی ہے‘

عصمت جبیں اسلام آباد
5 مارچ 2024

آٹھ مارچ کو منائے جانے والے خواتین کے عالمی دن کی تیاریاں پاکستان میں بھی اب اپنے آخری مراحل میں ہیں۔ پاکستان میں اس دن کے موقع پر عورت آزادی مارچ کا اہتمام پہلی بار دو ہزار اٹھارہ میں کیا گیا تھا۔

https://p.dw.com/p/4dB8L
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ برس عورت مارچ کے موقع پر لی گئی چند احتجاجی خواتین کی ایک تصویر
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ برس عورت مارچ کے موقع پر لی گئی چند احتجاجی خواتین کی ایک تصویرتصویر: Abdul Sattar/DW

پاکستان میں خواتین کے حقوق کی تحریک معاشرے میں اقتصادی، ماحولیاتی اور تولیدی انصاف کے لیے ایک اہم ترقی پسند تحریک سمجھی جاتی ہے۔ عورت مارچ کا اہتمام ملک کے مختلف شہروں میں اس لیے کیا جاتا رہا ہے کہ یوں خواتین کے ساتھ سماجی، معاشی اور سیاسی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی جا سکے اور ساتھ ہی خواتین پر تشدد اور انہیں ہراساں کیے جانے کی مذمت بھی کی جا سکے۔ اسی لیے اکثر بڑے شہروں میں اس روز پاکستانی خواتین پلے کارڈز اور پوسٹروں کے ذریعے اپنے خیالات اور مطالبات کا اظہار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

رواں برس عورت مارچ کا موضوع

اس سال بھی پاکستان میں عالمی یوم خواتین کو اس دن سے متعلق بین الاقوامی تحریک کے تناظر میں ہی دیکھا جا رہا ہے اور رواں برس کا موضوع ہے: امید اور مزاحمت۔ مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں نہ تو خواتین کے ساتھ ناانصافی اور ان کے حقوق کی پامالی نئی ہے اور نہ ہی اس پامالی کے خلاف احتجاج کوئی نئی بات ہے۔

عورت مارچ اور جماعت اسلامی کا اجتماع

لیکن قدامت پسند پاکستانی معاشرے میں اس عورت مارچ کو شروع سے ہی شدید تنقید اور اعتراضات کا سامنا بھی رہا ہے۔ کبھی اس مارچ کے شرکاء کے نعروں پر اعتراض کیا گیا تو کہیں احتجاجی خواتین کی بے باکی پر۔ یہ بھی گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہر سال ہی دیکھنے میں آیا کہ مذہبی جماعتوں کی طرف سے ہاکستانی حکومت پر دباؤ بھی ڈالا جاتا رہا کہ عورت مارچ کی اجازت اس لیے نہ دی جائے کہ یہ ''معاشرتی اقدار کے منافی‘‘ ہوتا ہے۔

''ان نعروں پر جتنی تنقید ہوتی ہے، اتنے ہی ہمارے ارادے پختہ ہوتے جاتے ہیں،‘‘ زینب جمیل
''ان نعروں پر جتنی تنقید ہوتی ہے، اتنے ہی ہمارے ارادے پختہ ہوتے جاتے ہیں،‘‘ زینب جمیلتصویر: Zaineb Jameel


ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ ''میرا جسم، میری مرضی‘‘ جیسے نعروں نے اس تحریک کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ اس لیے کچھ عرصے سے یہ امکان بھی ‌ظاہر کیا جاتا رہا کہ شاید اس سال عورت مارچ کے نعروں اور موٹو میں کوئی تبدیلی آ جائے۔ ایسی کوئی تبدیلی کیا اس تحریک کی کمزوری کا باعث بن سکتی ہے؟ اس موضوع پر ڈی ڈبلیو نے اسلام آباد میں عورت مارچ کی منتظم اعلیٰ اور صنفی امور کی ماہر زینب جمیل سے گفتگو کی۔

عورت مارچ پر تنقید کیوں کی جاتی ہے؟

انہوں نے بتایا کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ عورت مارچ کے نعرے بدل جائیں گے، ''نہ تو نعرے بدلیں گے اور نہ ہی مقاصد۔ ہم ان پر ہمیشہ قائم رہیں گے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ 'عورت کی آزادی‘ اور 'میرا جسم، میری مرضی‘ جیسے یہ نعرے ہی ہماری پہچان ہیں اور ہم یہ نعرے لگاتے رہیں گے۔"

زینب جمیل نے کہا، ''ان نعروں پر جتنی تنقید ہوتی ہے، اتنے ہی ہمارے ارادے پختہ ہوتے جاتے ہیں۔ ہم لوگوں سے بات کرتے اور انہیں ان نعروں کا مفہوم سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ہماری بات سنتے ہیں اور ہم سے اتفاق بھی کرتے ہیں۔ پہلے تو لوگ کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے تھے۔ مشورہ یہ دیا جاتا تھا کہ اپنے نعرے بدلیں۔ لیکن یہ نعرہ تب تک ہماری تحریک کا حصہ رہے گا، جب تک لوگ اس کا مفہوم سمجھتے ہوئے ہمارے ساتھ آ کر کھڑے نہ ہو جائیں۔"

''ہر تحریک کی ایک بنیاد ہوتی ہے۔ عورت مارچ کی  بنیاد اب بھی وہی ہے، جو آج سے پانچ سال پہلے تھی،‘‘ ہدیٰ بگٹی
''ہر تحریک کی ایک بنیاد ہوتی ہے۔ عورت مارچ کی  بنیاد اب بھی وہی ہے، جو آج سے پانچ سال پہلے تھی،‘‘ ہدیٰ بگٹیتصویر: Huda Bugti

مارچ کی آٹھ تاریخ اتنی بھاری کیوں؟

اسلام آباد میں عورت مارچ کی منتظم اعلیٰ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''رواں برس عورت مارچ کا موضوع امید اور مزاحمت ہے۔ اس بار ہم یہ مارچ بالخصوص ان بلوچ خواتین کے نام کرنا چاہتے ہیں، جو تربت سے اسلام آباد تک بہادری اور جرأت کی مظہر بنیں۔ یہ مارچ ان خواتین کے نام بھی ہو گا، جو روزمرہ زندگی میں پدرسری سماج کے خلاف مزاحمت کرتی ہیں۔ اس لیے کہ ہمیں یقین ہے کہ امید ہمیشہ مزاحمت سے ہی جنم لیتی ہے۔" زینب جمیل نے کہا کہ پاکستان میں اس تحریک کو زیادہ منظم کرنے کے لیے ہر سال اس میں نئی سماجی آوازوں کو شامل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔

عورت مارچ پر تنقید بھی، اس کا دفاع بھی

پاکستانی دارالحکومت کے سیکٹر ایف الیون کی ایک رہائشی، ڈاکٹر غزالہ پروین نے عورت مارچ کے شرکاء اور منتظمین پر تنقید کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو میں کہا، ''اسلام نے بطور مذہب عورتوں کو بہت حقوق دیے ہوئے ہیں۔ پھر 'میرا جسم، میری مرضی‘ جیسے نعرے ہمیں زیب نہیں دیتے۔ سڑکوں پر بے باکی سے اچھل کود کر کے کون سا اسلام زندہ کیا جاتا ہے؟‘‘ ڈاکٹر غزالہ پروین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تحریک پر پابندی لگا دے، جو ''نئی نسل کو بہکا رہی ہے۔‘‘

اس سوچ کے برعکس معروف سماجی کارکن اور عورت مارچ کے اہتمام میں سرگرمی سے حصہ لینے والی ہدیٰ بگٹی نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”جس طرح کے پدر شاہی معاشرے میں ہم رہتے ہیں، وہاں عورت کا پبلک میں آ کر بے باکی سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مجبور، کمزور یا بلک بلک کر روتی ہوئی عورت تو سماجی سطح پر قابل قبول ہوتی ہے مگر ہنستی مسکراتی، ناچتی گاتی عورت بالکل نہیں۔ یہی وہ منفی رویہ ہے، جو پدرشاہانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ "

ٹرانس جینڈرز عورت مارچ میں شامل کیوں؟

پاکستان اور لبرل فیمنزم

ہدیٰ بگٹی نے دلائل دیتے ہوئے کہا، ''ہر تحریک کی ایک بنیاد ہوتی ہے۔ عورت مارچ کی  بنیاد اب بھی وہی ہے، جو آج سے پانچ سال پہلے تھی۔ اس لیے کہ عورت کے جسم پر ہمارے معاشرے کے ہر فرد کا حق تو ہے، چاہے وہ مولوی ہو، شوہر ہو، باپ ہو یا پھر  بھائی۔ صرف عورت کا خود پر ہی کوئی اختیار نہیں ہے۔ یہ تحریک تب تک جاری رہے گی، جب تک عورت کو اس کے اپنے جسم پر پورا حق نہیں ملتا۔ یعنی کوئی اسے ریپ نہ کرے، اس کی جبری  شادی نہ کرے۔ آج اگر عورتوں کے پاس کچھ حقوق ہیں، تو وہ انہیں اسی تحریک اور جدوجہد کی بنا پر ملے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر کی خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کی بدولت آج پاکستانی خواتین کو اپنی مرضی کی شادی کی قانونی اجازت ہے۔ اس لیے ہمیں عورت مارچ کو ایک دن کے طور پر منانے کے بجائے ایک منظم تحریک کے طور پر اپنانا چاہیے۔"

عورت مارچ نے جمود کو توڑا ہے، نعیم احمد مرزا

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے غیر سرکاری ادارے عورت فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نعیم احمد مرزا نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو میں اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو منائے جانے والے خواتین کے دن اور عورت مارچ کا مقصد صنفی مساوات، تولیدی حقوق اور خواتین کے خلاف تشدد  اور بدسلوکی جیسے مسائل کی طرف توجہ دلانا ہے۔

پاکستانی مرد عورت مارچ سے خوف زدہ کیوں ہیں؟

عورت مارچ کے حامی پاکستانی مرد


انہوں نے کہا، ”عورت مارچ  پر اعتراضات بھی اسی لیے کیے جاتے ہیں کہ اس تحریک نے جیسے تالاب پر جمی کائی ہٹا دی ہے، یا سوچ پر جو جمود طاری تھا، اسے توڑا ہے۔ یہ ایک خود رو تحریک ہے، جو یونیورسٹیوں کی لڑکیوں نے معاشرے میں ظلم، تشدد، ریپ، کم عمری کی اور جبری شادیوں کے خلاف شروع کی۔ اس تحریک کا مطلب ہے کہ عورت کا جسم ایک آئین ہے، اور اس آئین کا احترام اور پاسداری سب پر فرض ہے۔ اس تحریک کی کامیابی یہ ہے کہ حال ہی میں جب لاہور کے علاقے اچھرہ بازار میں ایک عورت کا تماشہ بنانے کی کوشش کی گئی، تو ایک دوسری عورت نے ہی وہاں پہنچ کر اسے تحفظ فراہم کیا۔"

میرا جسم اور تمہاری خوش گمانیاں
نعیم احمد مرزا نے عورت مارچ کو ایک مثبت کاوش قرار دیتے ہوئے کہا، ”پہلے ووٹ ڈالنے کے حق کو بھی گناہ اور غیر شرعی کہا جاتا رہا تھا۔ لیکن عورتوں کی آزادی کی تحریکوں سے ہی یہ حق حاصل کیا گیا۔ اب عورت کا ووٹ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا مرد کا۔ اس کی سب سے بڑی مثال حالیہ الیکشن سے ملتی ہے، جب بھرپور طریقے سے عورتوں نے سیاست میں حصہ لیا۔ پہلے لڑکیوں کی تعلیم کو بھی معیوب اور غیر ضروری سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب مذہبی شخصیات بھی اپنی بچیوں کو تعلیم دلواتی ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات تو خوش آئند ہے کہ پاکستانی عورت نے سیاست اور تعلیم کے شعبوں میں اپنے قدم جما لیے ہیں، تاہم معاشی طور پر وہ ابھی تک مستحکم اور خود کفیل نہیں، ''اسی لیے اب خواتین کے حقوق کی جدوجہد کا رخ اقتصادی خود مختاری کی طرف کر دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔‘‘