1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتچین

چینی معیشت بحالی کے کٹھن راستے پر گامزن

17 جنوری 2024

2023ء کی چوتھی سہ ماہی میں چینی معیشت میں قدرے بہتری آئی ہے تاہم یہ 30 سالوں میں ملکی معیشت میں ترقی کی سب سے سست رفتار رہی۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملکی آبادی میں مسلسل دوسرے سال کمی آئی ہے۔

https://p.dw.com/p/4bMmE
China l Chinesischer Yuan fällt auf Rekordtief
تصویر: Costfoto/picture alliance

چین میں بدھ کے روز جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملکی آبادی میں مسلسل دوسرے سال کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ سال 2023 کی چوتھی سہ ماہی میں چین کی معیشت میں قدرے اضافہ ہوا تاہم یہ  30 سالوں میں چینی معیشت میں سب سے سست رفتار ترقی تھی۔

 آبادی میں کمی  

شرح پیدائش میں کمی اور کورونا وائرس کے وبائی مرض کی وجہ سے اموات کی لہر نے چینی آبادی میں مندی کو تیز کر دیا ہے، اس صورتحال کے ملکی معیشت کی ترقی کی صلاحیت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

China Peking Familie mit drei Kindern beim Einkauf
چین میں مسلسل دوسرے سال آبادی میں کمی نوٹ کی گئی ہےتصویر: Andy Wong/AP/picture alliance

بیجنگ کے قومی شماریات بیورو نے بدھ کو کہا، "2023 کے آخر میں  قومی آبادی 1,409.67 ملین رہی، جو 2022 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 2.08 ملین کم ہے۔‘‘ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق"2023 میں 9.02 ملین بچے پیدا ہوئے ۔"

چین کی اقتصادی کارکردگی

گزشتہ سال کے مقابلے اکتوبر سے دسمبر کے عرصے میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 5.2 فیصد کا اضافہ ہوا ۔2023 کی یہ ترقی ملکی معیشت میں ایک چھوٹی سی بہتری ہے کیونکہ  2022ء میں چین کی جی ڈی پی صرف تین فیصد تھی چین میں صحت عامہ کے حوالے سے عائد سخت پابندیوں اور کووڈ انیس کی وبا کی وجہ سے ملک گیر لاک ڈاؤن نےکاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا۔ تاہم کووڈ انیس کی وبا کے سالوں کو نکال کر یہ اعداد و شمار 1990 کے بعد چینی معیشت میں سب سے کمزور ترقی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

چین نے  کووڈ کی پابندیوں کے خاتمے کے بعد 2023 کے لیے ملکی معیشت میں تقریباً پانچ فیصد ترقی کا ہدف مقرر کیا تھا۔ لیکن یہ اقتصادی اشارے چین کے لیے ایک پیچیدہ معاشی بحالی کو ظاہر کرتے ہیں۔

Evergrande Immobilienkonzern China
چین کے پراپرٹی سیکٹر میں مندی نے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیںتصویر: STR/AFP/Getty Images

اس ماہ کے آغاز پر جاری کیے گئے دسمبر کے تجارتی اعدادوشمار میں مسلسل دوسرے ماہ بھی برآمدات میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم صارفین کے لیے اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے مہینے کمی واقع ہوئی۔ چین کے وزیر اعظم لی کیانگ نے منگل کو ورلڈ اکنامک فورم میں خطاب کرتے ہوئےکہا کہ ان کے ملک نے بڑے پیمانے پر کوئی مالی سہارا لیے بغیر اپنا اقتصادی ہدف حاصل کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی "طویل مدتی ترقی کے لیے اچھی اور ٹھوس بنیادیں موجود ہیں اور کچھ جھٹکوں کے باوجود معیشت کے لیے مثبت رجحان میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔‘‘

دریں اثنا چینی حکام مارچ میں رواں برس کے لیے اپنا ترقیاتی ہدف جاری کرنے والے ہیں۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ  پراپرٹی سیکٹر میں مندی  اور صارفین کے کمزور اعتماد کے پیش نظر 2024 چین کے لیے اقتصادی ترقی کے حوالے سے ایک سخت سال ہی رہے گا۔

ش ر⁄ رب ( روئٹرز، اے پی، اے ایف پی)

کیا چینی اقتصادی ترقی تھم گئی ہے؟ کیا اب زوال کا وقت شروع ہو گیا؟