1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتایشیا

مسجد یا مندر؟ تاریخی گیان واپی مسجد کے مستقبل کا فیصلہ

20 دسمبر 2023

بعض مورخین کا کہنا ہے کہ وارانسی شہر میں واقع گیان واپی مسجد ہندو دیوتا شیو کے ایک مندر کے کھنڈرات پر بنائی گئی تھی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مسجد کے مستقبل کے بارے میں دائر درخواستوں کا جائزہ لینے کا حکم جاری کر دیا۔

https://p.dw.com/p/4aOwY
Uttar Pradesh | Gyanvapi-Moschee
تصویر: DW

بھارت میں ایک عدالت نے وارانسی شہر میں قائم ایک تاریخی مسجد کو ہندو عبادت گزاروں کے لیے کھولے جانے کے مقدمے میں دائر درخواستوں کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔

برصغیر میں قائم مسلم مغل سلطنت نےگیان واپی مسجد  17 ویں صدی میں ہندوؤں کے مقدس شہر وارانسی میں تعمیر کی تھی۔اس شہر میں ملک بھر سے آنے والے ہندو مذہب کے پیروکار اپنے پیاروں کی لاشوں کو دریائے گنگا کے کنارے جلانے یا ان کی استھیاں اس دریا میں بہانے کے لیے آتے ہیں۔

Indien Varanasi DW  Reportage Moschee Disput
گیان واپی مسجد بر صغیر کے مغل حکمرانوں نے سترھویں صدی میں تعمیر کی تھیتصویر: Sharique Ahmad/DW

یہ مسجد ان متعدد اسلامی عبادت گاہوں میں سے ایک ہے، جنھیں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے حمایت یافتہ انتہا پسند کارکن  دوبارہ سے ہندو عبادت گاہوں میں تبدیل کرنے کے لیے کئی دہائیوں سے کوششیں کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال پہلے بھی ملک میں پُر تشدد مذہبی فسادات کو جنم دے چکی ہے۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز اپنی ایک ماتحت عدالت کو ہدایت دی کہ وہ مسجد کے مستقبل کے بارے میں ان درخواستوں کا جائزہ لے، جس کے مطابق بعض مورخین کا کہنا ہے کہ یہ ہندو دیوتا شیو کے ایک مندر کے منہدم شدہ کھنڈرات پر بنائی گئی تھی۔

اس فیصلے سے ہندوؤں کی جانب سے گیانواپی کے مقام پر پوجا کرنے کے حق اور اس کی بنیاد پر مندر کی بحالی کا مطالبہ کرنے والے کئی دیوانی مقدمات میں پیشرفت ہو سکے گی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف  جسٹس روہت رنجن اگروال نے ایک نچلی عدالت کو حکم دیا کہ وہ چھ ماہ کے اندر اس جگہ کے مستقبل پر فیصلہ کرے اور اس تنازعہ کو "قومی اہمیت" کا معاملہ قرار دیا۔

خیال رہے کہ 1992 میں ہندو انتہا پسندوں نے ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں واقع صدیوں پرانی بابری مسجد کو منہدم کر دیا تھا، جس سے فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور  ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

Bildergalerie 20 Jahre nach dem Herabreißen der Babri-Moschee
1992 میں ہندو انتہا پسندوں نے ایودھیا میں واقع صدیوں پرانی بابری مسجد کو منہدم کر دیا تھاتصویر: AFP/Getty Images

تباہ شدہ بابری مسجد کی جگہ کے مستقبل پر دہائیوں سے جاری عدالتی جنگ 2019 میں اس وقت ختم ہوئی جب سپریم کورٹ نے دیوتا رام کے لیے مندر کی تعمیر کی اجازت دے دی، جو ہندو مذہب کی مقدس کتابوں کے مطابق اسی شہر میں پیدا ہوے تھے۔

وزیر اعظم مودی کی پارٹی نے کئی دہائیوں سے یہاں مندر کی تعمیر کے لیے مہم چلائی اور اب مودی اگلے ماہ قومی انتخابات سے قبل اس مندر کے ڈھانچے کا افتتاح کریں گے۔

مودی کی پارٹی بھارتی ہندو اکثریت کے مرہون منت ملکی سیاست میں سب سے غالب طاقت بن چکی ہے اور اس صورتحال سے سخت گیر ہندو عناصر کی  حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

سن 2014 میں جب سے مودی نے اقتدار سنبھالا ہے، اس کے بعد سے ملکی قانون میں ہندو بالادستی قائم کرنے کے مطالبات میں تیزی آئی ہے، جس سے بھارت میں بسنے والے 210 ملین مسلمانوں میں اپنے مستقبل کے بارے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

ش ر / ع ب (اے ایف پی)

بھارت میں مسجد کا تنازعہ، مذہبی کشیدگی کا خدشہ